انسان جب کسی حقیقت کو دل سے قبول نہیں کرنا چاہتا تو وہ اس کے خلاف طرح طرح کے بہانے تلاش کرتا ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی جب یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن اور پیغمبرِ اسلام کا مشن صرف مخصوص عرب معاشرے کے لیے تھا اور دیگر خطوں کے انسانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں، تو یہ دراصل حق کے اعتراف سے فرار کی ایک صورت ہے۔ قرآن کی رُو سے یہ محض مجادلہ برائے مجادلہ (argument for the sake of argument) کی روش ہے۔ جب آدمی کا مقصد طلبِ حق (quest for truth) نہ ہو بلکہ صرف اعتراض برائے اعتراض ہو، تو وہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ تاریخ میں اس کی مثال عبد اللہ بن الزبعریٰ کا وہ طرزِ عمل ہے جس نے قرآن کے اس بیان پر کہ 'جھوٹے معبود جہنم کا ایندھن بنیں گے'، یہ مغالطہ پیدا کیا کہ عیسائیوں کے ہاں حضرت عیسیٰ کی پرستش ہوتی ہے تو کیا وہ بھی جہنم میں جائیں گے؟ یہ حقیقت پسندی نہیں بلکہ حق سے بچنے کے لیے منطقی موشگافیوں کا سہارا لینا ہے۔
یہ طرزِ فکر انسان کی پوری نفسیات کو مسخ کر دیتا ہے۔ مغالطہ آمیز گفتگو اور حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا (twisting of language) بظاہر کسی چھوٹے معاملے میں شروع ہوتا ہے، مگر رفتہ رفتہ یہ انسان کی مستقل عادت (psychological pattern) بن جاتا ہے۔ غیر سنجیدہ کلامی (loose talk) اور کج بحثی آدمی کے فکری توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فکری راست بازی اور سیدھی بات (straightforward thinking) انسان کی بنیادی اخلاقی ضرورت ہے۔ اگر انسان زندگی کے معاملات میں بے لاگ اور سیدھی بات کرنے کا عادی نہ ہو، تو وہ حق کے معاملے میں بھی راست فکری کا مظاہرہ نہیں کر سکتا اور بالآخر دائمی گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کا واضح ثبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے میں ملتا ہے۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے حق کا کھلا مظاہرہ کیا تو وہی ایک واقعہ فرعون کے دربار کے جادوگروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن گیا۔ چونکہ جادوگروں کا مقصد حق کی تلاش تھا، اس لیے انہوں نے معروضی حقیقت (objective reality) کو دیکھتے ہی بغیر کسی تاویل کے فورا تسلیم کر لیا اور ان کے لیے مزید کسی بحث کی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس کے برعکس، چونکہ فرعون نے پہلے سے ہی انکار کا فیصلہ کر رکھا تھا، اس لیے اس نے اسی واقعے سے ایک نیا اعتراض تراشا اور اسے ایک سازشی نظریہ (conspiracy theory) قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسیٰ دراصل تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ ایک ہی مشاہدہ سچے طالبِ حق کے لیے یقین کا باعث بنتا ہے اور ہٹ دھرم کے لیے مزید سرکشی کا ایندھن بن جاتا ہے۔
قرآنِ مجید کی آیت 'كَذٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ' اور 'نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ' دراصل سنتِ الٰہی (divine law) کے اسی اٹل اصول کو بیان کرتی ہیں۔ خدا کا یہ قانون ہے کہ انسان اپنے آزادانہ ارادے سے جو راستہ چنتا ہے، خدا اس کے لیے اسی راستے کے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ اگر آدمی سچائی اور راست بازی کا طالب ہو تو اسے سچائی کی توفیق اور مضبوط فکری شخصیت (strong personality) عطا کی جاتی ہے؛ لیکن اگر وہ فکری کجی اور مجرمانہ ذہنیت (loose thinking) کو اپنا شیوہ بنا لے تو خدا اسے اسی کی بنائی ہوئی غلط سوچ کے حوالے کر دیتا ہے۔ بالآخر انسان کا اپنا داخلی فیصلہ (personal decision) ہی اس کی ابدی تقدیر کا تعین کرتا ہے۔
(a) The Quran was revealed in the Arabic language, which was also the mother tongue of the Prophet who presented it. This gave those who denied the truth the opportunity to allege that the Quran was this Prophet’s own creation. They said that, being an Arab, he had authored the Quran in Arabic. But the tenor of this objection itself clearly shows that it is lacking in seriousness. Indeed those who are not serious about matters of importance always find some flimsy excuse or the other to be critical of them. For example, if this Arabic Quran had been revealed to a non-Arab and if that person, in spite of not knowing Arabic, had recited the Arabic Quran to them, they would have immediately said that he was being tutored by some Arab. For those who lead worldly lives, any admission of Truth amounts to negating themselves. When Truth appears before them and they do not accept it, having given more importance to personal considerations, they are so conditioned to their worldly ways, that they are unable to revise their thinking and acknowledge the truth, specially when it goes against their interests.